راولپنڈی میں حنا جاوید کی مبینہ ہلاکت کے بعد پاکستان کی شوبز شخصیات نے سوشل میڈیا پر انصاف اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
فنکاروں نے متاثرہ خاندان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے واقعے کی مکمل قانونی تحقیقات پر زور دیا۔
حنا جاوید 20 اگست کو راولپنڈی میں مردہ پائی گئی تھیں۔ ان کے بھائی فہد کی مدعیت میں شوہر اصغر امام، سسر اور ایک گھریلو ملازم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، تاہم مقدمے میں نامزد افراد پر الزامات تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔
اداکارہ ماہرہ خان نے حنا جاوید کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کے تحفظ سے متعلق سوالات اٹھائے، انہوں نے متاثرہ خاندان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ممکنہ تعاون کی پیشکش بھی کی۔
ہانیہ عامر اور ثمر جعفری نے انسٹاگرام پر انصاف کے مطالبے سے متعلق پوسٹس اپنی اسٹوریز میں شیئر کیں۔ ان پوسٹس میں حنا جاوید کے اہلخانہ کی جانب سے مبینہ تشدد اور ناروا سلوک سے متعلق دعوے بھی شامل تھے۔
اداکارہ عفت عمر نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں حکومتی اختیار کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے پر زور دیا۔
اداکار عثمان خالد بٹ نے کیس کی سامنے آنے والی تفصیلات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف کے لیے طویل عرصے تک قانونی نظام کے خلاف جدوجہد نہیں کرنی چاہیے۔
شوبز شخصیات کے بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر حنا جاوید کے لیے انصاف کی مہم بھی نمایاں ہوئی ہے۔ مختلف صارفین نے تحقیقات کی شفافیت اور قانونی کارروائی کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔
حنا جاوید کیس میں حتمی ذمہ داری کا تعین تفتیش، فرانزک شواہد اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گا۔ موجودہ مرحلے پر مقدمے میں عائد الزامات کو ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا، جبکہ شفاف تحقیقات ہی واقعے کے اصل حقائق سامنے لانے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔





