تازہ ترین
ایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیںایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیں
کاروبار

پاکستان کا عالمی ہائی رسک میری ٹائم فہرست سے اخراج، بحری تجارت کے لیے بڑی پیشرفت

ہائی رسک میری ٹائم

جوائنٹ وار کمیٹی نے کامیاب سفارتی مذاکرات اور سیکیورٹی ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد پاکستان اور اس کے سمندری حدود کو عالمی ہائی رسک میری ٹائم ایریاز کی فہرست سے خارج کر دیا۔

پاکستان کی بحری تجارت اور معیشت کے لیے ایک بڑی کامیابی سامنے آئی ہے، جہاں جوائنٹ وار کمیٹی نے پاکستان اور اس کی سمندری حدود کو عالمی ہائی رسک میری ٹائم ایریاز کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث جوائنٹ وار کمیٹی نے 3 مارچ 2026 کو بحرین، جبوتی، کویت، عمان اور قطر کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساحلی علاقوں کو بھی ہائی رسک میری ٹائم زون میں شامل کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی عالمی کیپیٹل مارکیٹس میں واپسی، یو ایس ڈالر بینچ مارک یورو بانڈ کا اجرا شروع

ہائی رسک کی اس فہرست میں شامل ہونے کی وجہ سے پاکستانی بندرگاہوں پر آنے والے جہازوں کو اضافی انشورنس تقاضوں یعنی وار رسک انشورنس کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس سے پاکستان کے لیے بحری تجارت کے اخراجات میں بیجا اضافہ ہو رہا تھا۔

اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزیرِ بحری امور کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے عالمی لائیڈز حکام اور کمیٹی سے تعمیری مذاکرات کیے۔

مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے ٹھوس تکنیکی شواہد اور سیکیورٹی ڈیٹا کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کیا گیا، جس کے بعد جوائنٹ وار کمیٹی نے پاکستان کو اس لسٹ سے نکالنے کا اعلان کیا۔

اس فیصلے کے بعد اب پاکستانی بندرگاہوں پر آنے والے جہازوں کو اضافی انشورنس کے اخراجات برداشت نہیں کرنے پڑیں گے، جس سے ملک میں بحری تجارت، علاقائی رابطوں اور ٹرانز شپمنٹ کی صلاحیتوں کو زبردست فروغ ملے گا۔