آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن نے ڈیزل کی قیمت میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ مہنگے ڈیزل کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ کے کاروبار پر پڑ رہا ہے۔
محمد اویس چوہدری نے دعویٰ کیا کہ حکومت ایک لیٹر ڈیزل پر 100 روپے سے زائد ٹیکسز اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اضافی محصولات کا جائزہ لے کر ٹرانسپورٹرز اور صارفین کے لیے ریلیف کا راستہ نکالا جائے۔
ایسوسی ایشن کے صدر کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں اضافہ صرف ٹرانسپورٹ سیکٹر تک محدود نہیں رہتا۔ ایندھن مہنگا ہونے سے مال برداری کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس کے نتیجے میں فریٹ ریٹس اور کاروباری لاگت پر دباؤ پیدا ہوتا ہے۔
محمد اویس چوہدری نے کہا کہ بڑھتے ہوئے فریٹ اخراجات صنعت اور تجارت کے لیے اضافی مالی بوجھ پیدا کرتے ہیں۔
ان کے مطابق اس اضافی لاگت کا اثر بالآخر مختلف اشیا کی قیمتوں کے ذریعے عام صارف تک منتقل ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی کاروباری منصوبہ بندی کو مشکل بناتی ہے۔ ٹرانسپورٹرز کو مستقبل کے اخراجات کا اندازہ لگانے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہتا ہے۔
محمد اویس چوہدری نے کہا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کے ساتھ طے شدہ تحریری معاہدے کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ ہر 15 روز بعد ہونا چاہیے۔
انہوں نے حکومت سے اسی بنیاد پر باقاعدہ قیمتوں کا نظام نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔
ٹرانسپورٹرز کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں استحکام مہنگائی کے دباؤ کو محدود کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ مال برداری کے اخراجات کم رہنے سے اشیا کی ترسیل کی لاگت بھی قابو میں رکھنے کا امکان ہوتا ہے۔
ایسوسی ایشن نے حکومت سے ڈیزل پر عائد ٹیکسز اور قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔
محمد اویس چوہدری کے مطابق ٹرانسپورٹ شعبے کو مزید مالی دباؤ سے بچانے کے لیے قیمتوں میں استحکام ضروری ہے۔






