دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں صارفین ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 130 روپے 75 پیسے ٹیکس اور مختلف مارجنز کی مد میں ادا کر رہے ہیں۔ یہ رقم پیٹرول کی بنیادی لاگت کے علاوہ وصول کی جاتی ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کے ایک لیٹر پر ٹیکس، لیوی اور دیگر مارجنز کی مجموعی رقم 122 روپے 47 پیسے بتائی گئی ہے۔ یہ اضافی رقم ڈیزل کی بنیادی لاگت اور صارفین سے وصول کی جانے والی حتمی قیمت کے درمیان فرق کا بڑا حصہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 245 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہے۔ اس کے مقابلے میں مارکیٹ میں اس کی قیمت 368 روپے 29 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
ڈیزل کی بنیادی لاگت اور حتمی قیمت کے درمیان 122 روپے 47 پیسے کا فرق ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ رقم لیوی، ٹیکس اور مختلف مارجنز کی مد میں شامل ہے۔
حکومت نے حال ہی میں پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں 1 روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔ اس اضافے کا اطلاق پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر فوری طور پر کیا گیا۔
کابینہ ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل پر ڈیلرز کا مارجن 8 روپے 64 پیسے سے بڑھ کر 9 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ مارجن میں اضافے سے فی لیٹر قیمت کے مجموعی ڈھانچے میں ڈیلرز کا حصہ بڑھ گیا ہے۔
ایندھن کی قیمت میں شامل مختلف محصولات اور مارجنز براہ راست صارف کی جانب سے ادا کی جانے والی رقم کا حصہ بنتے ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نقل و حمل کے اخراجات سے منسلک ہونے کے باعث کاروباری لاگت پر بھی اثر ڈالتی ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی حتمی قیمت میں بنیادی لاگت کے علاوہ حکومتی محصولات اور سپلائی چین سے وابستہ مارجنز شامل ہوتے ہیں۔ ان اجزا کی تفصیل سے صارفین کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ عالمی خام تیل کی قیمت سے پمپ پر ادا کی جانے والی قیمت تک رقم کیسے بڑھتی ہے۔






