تازہ ترین
ایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیںایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیں
دنیا

مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت متاثر کرنے کے لیے مودی سرکار نئی سازش کر رہی ہے، فاروق عبداللہ

مقبوضہ کشمیر

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے کشمیری پنڈتوں کو ملنے والی دھمکیوں کے معاملے پر بھارتی حکومت کا ڈرامہ بے نقاب کر دیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے مقبوضہ وادی میں نام نہاد شدت پسندی اور کشمیری پنڈتوں کو ملنے والی دھمکیوں سے متعلق بھارتی دعوؤں کو مودی حکومت کا رچایا ہوا ڈرامہ قرار دے دیا ہے۔

اپنے ایک اہم بیان میں فاروق عبداللہ نے بھارتی سرکار کے بیانیے پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیری پنڈتوں کو واقعی دھمکیاں مل رہی ہیں تو پھر مقبوضہ وادی میں تعینات باہر سے آئے ہندو افسران کو ایسی دھمکیاں کیوں نہیں مل رہیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کشمیری پنڈتوں کو نام نہاد دھمکیوں کا معاملہ اصل میں جموں و کشمیر کی آئینی اور ریاستی حیثیت کو متاثر کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔

سابق وزیراعلیٰ نے مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں شدت پسندی کے مکمل خاتمے کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، تو پھر دوسری طرف یہ دھمکیاں آخر کہاں سے آ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : آزاد کشمیر کے فسادی جتھے سے لاتعلقی کا سلسلہ جاری، کور ممبر ملک عدیل نے کنارہ کشی اختیار کرلی

انہوں نے نشاندہی کی کہ مقبوضہ وادی میں لیفٹیننٹ گورنر کے پاس پولیس اور تمام انتظامیہ کے مکمل اختیارات موجود ہیں، اس لیے سیکیورٹی کی اس صورتحال پر جواب بھی انتظامیہ کو ہی دینا چاہیے۔

فاروق عبداللہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ان کا یہ ماننا ہے کہ یہی لوگ خود اس قسم کی دھمکیاں دے کر حالات خراب کرنے کا ڈرامہ رچا رہے ہیں۔

مقبوضہ وادی میں سیکیورٹی کی نام نہاد آڑ لے کر ہندو انتہا پسند مودی حکومت کشمیری عوام کی تحریک کو کچلنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

مودی سرکار کشمیری پنڈتوں کو نام نہاد دھمکیوں کے معاملے کو بطور پروپیگنڈا استعمال کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنا غیر قانونی تسلط برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

اسی نام نہاد شدت پسندی کو جواز بنا کر قابض بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند عوام کی آواز کو دبانے کے لیے وادی میں 10 لاکھ کے قریب فوجی تعینات کر رکھے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر شہریوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔