تازہ ترین
ایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیںایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیں
دنیا

ایران کا آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو روکنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، آسٹریلوی نائب وزیر اعظم

آبنائے ہرمز

آسٹریلیا نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت پر ایرانی پابندیوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے آبی گزرگاہ کو فوری طور پر تمام جہازوں کے لیے کھولنے کا مطالبہ کردیا۔

آسٹریلیا کے نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو عالمی تجارتی جہاز رانی کے لیے فوری طور پر کھول دے۔

انہوں نے کہا کہ ایران دنیا کی اس اہم ترین آبی گزرگاہ سے جہازوں کی گزرگاہوں کو محدود کر رہا ہے، جو کہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سلامتی کونسل امریکی جنگی جرائم کی فوری مذمت کرے، ایرانی سفیر کا خط

واشنگٹن ڈی سی سے اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے آسٹریلوی نائب وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو ہر قسم کے سمندری ٹریفک کے لیے کھولا جائے۔

رچرڈ مارلس نے دعویٰ کیا کہ ایران کے یہ اقدامات اقوام متحدہ کے سمندری قوانین سے متعلق معاہدوں اور بین الاقوامی سمندروں میں آزادانہ نقل و حرکت کے بنیادی اصولوں کے بلکل خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور جنگ میں کمی دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آبنائے ہرمز کو بحال کیا جائے تاکہ دنیا بھر میں ایندھن اور تیل کی سپلائی چین دوبارہ معمول پر آ سکے۔

آسٹریلوی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ایران اس وقت قصداً آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہاز رانی کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ آسٹریلیا اور عالمی برادری کے لیے نا قابل قبول ہے۔