تازہ ترین
ایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیںایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیں
سائنس و ٹیکنالوجی

سینیٹ کمیٹی کی درآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں فوری کمی کی سفارش

موبائل پیکجز کا موازنہ

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ نے درآمد شدہ موبائل فونز پر عائد ٹیکس میں فوری کمی کی سفارش کردی ہے۔

سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کا اجلاس ہوا، جس میں درآمدی موبائل فونز کی قیمتوں کے تعین اور ان پر عائد ٹیکس کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران کمیٹی ارکان نے موبائل فونز کی درآمد پر عائد مختلف ٹیکسز، ان کی وصولی کے طریقہ کار اور صارفین پر پڑنے والے مالی بوجھ پر گفتگو کی۔

کمیٹی نے کسٹمز حکام کو ہدایت کی کہ درآمد شدہ موبائل فونز پر عائد ٹیکسز کے حوالے سے ایک مؤثر اور واضح میکنزم تیار کیا جائے۔

کمیٹی نے ایف بی آر اور ٹیرف کمیشن سے موبائل فونز پر عائد ٹیکس کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی، تاکہ موجودہ ٹیکس نظام کا جائزہ لیا جاسکے۔

قائمہ کمیٹی نے درآمد شدہ موبائل فونز پر عائد ٹیکس میں فوری کمی کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر صارفین اور کاروباری شعبے کے مفادات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی ٹیکس کو عائد کرنے یا ختم کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے۔

پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں اس وقت 35 کمپنیاں اسمارٹ فونز تیار کررہی ہیں، جس سے ملک میں موبائل فونز کی مقامی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔

سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ موبائل فونز پر ٹیکس عائد کرنے کے معاملے کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات پر بھی غور ہونا چاہیے کہ عوام کو موبائل فونز کی دستیابی میں سہولت دینے کے لیے موجودہ ٹیکس پالیسی مناسب ہے یا نہیں۔

سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ حکومت مختلف محصولات عائد کرکے عوام کے لیے مشکلات پیدا کررہی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے کاروباری سرگرمیوں کو سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔

سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ ملک میں پالیسیوں کا تسلسل موجود نہیں اور طویل المدتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مستقل اور واضح پالیسیوں کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب سیکریٹری کابینہ کامران علی نے موبائل فونز پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی مخالفت کی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیاں ملکی نظام میں انقلاب برپا کررہی ہیں۔

کامران علی کے مطابق ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں جن سے عوام اور کاروباری طبقے کو سہولت مل سکے۔