تازہ ترین
ایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیںایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیں
پاکستان

سی ایس ایس امتحان کیلئے عمر کی حد 35 سال کرنے کی سفارش مسترد

سی ایس ایس

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سی ایس ایس امتحان کے لیے عمر کی بالائی حد 30 سے بڑھا کر 35 سال کرنے سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے مرکزی مرکزی انتخاب سروس یعنی سی ایس ایس امتحان کے لیے عمر کی بالائی حد اور امتحان میں شرکت کے مواقع بڑھانے کی تمام سفارشات کو مسترد کر دیا ہے۔

اس سے قبل قائمہ کمیٹی کابینہ سیکریٹریٹ کی ذیلی کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ سی ایس ایس کے لیے عمر کی حد 30 سال سے بڑھا کر 35 سال کی جائے اور امتحان دینے کے مواقع 3 کے بجائے 5 کیے جائیں۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے موجودہ 30 سال کی حد برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی کو اپنے تحریری مؤقف سے آگاہ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستانی کھجور کی عالمی منڈیوں تک رسائی، برآمدات میں اضافہ

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا کہنا ہے کہ عمر کی حد یا امتحان کے مواقع بڑھانا مکمل طور پر وفاقی حکومت کے پالیسی دائرہ اختیار میں آتا ہے اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن یعنی ایف پی ایس سی صرف وفاقی حکومت کی منظور شدہ پالیسی پر عمل درآمد کرتا ہے۔

ایف پی ایس سِی کے 174 ویں اجلاس میں موجودہ پالیسی کو بحال رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، کیونکہ عمر کی حد بڑھانے سے سی ایس ایس امتحان کے امیدواروں کی تعداد میں انتہائی غیر معمولی اضافہ ہو جائے گا۔

تحریری مؤقف کے مطابق امیدواروں کی تعداد بڑھنے سے امتحان کے انعقاد اور پیپرز کی جانچ کا اضافی بوجھ بڑھے گا۔ زیادہ مواقع دینے سے امیدوار بار بار امتحان دینے کے چکر میں اپنے قیمتی پیداواری سال ضائع کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ زیادہ عمر میں سول سروس میں آنے والے افسران کی کل مدتِ ملازمت کم ہو جائے گی، جس سے اعلیٰ عہدوں کے لیے تجربہ کار افسران کی طویل المدتی دستیابی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔