تازہ ترین
ایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیںایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیں
پاکستان

سعودی عرب میں ملازمت ختم ہونے پر کفیل کے لیے اہم قانونی ذمہ داریاں مقرر

کراچی سے دمام پرواز

اسلام آباد: بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے سعودی لیبر قوانین کے تحت سعودی عرب میں مقیم پاکستانی ملازمین اور ان کے آجر یا کفیل کی قانونی ذمہ داریوں سے متعلق اہم تفصیلات جاری کردی ہیں۔

بیورو کے مطابق سعودی عرب میں ملازمت یا سروس کی مدت مکمل ہونے کے بعد آجر پر لازم ہے کہ وہ ملازم کو تجربہ یا سروس سرٹیفکیٹ جاری کرے۔ سرٹیفکیٹ میں ملازم کے کام کی نوعیت، ملازمت کی مدت اور تنخواہ سے متعلق معلومات واضح طور پر درج ہونا ضروری ہے۔

قانون کے تحت آجر کو اس سرٹیفکیٹ میں ایسے الفاظ یا عبارات استعمال کرنے کی اجازت نہیں جو ملازم کے لیے نقصان دہ ہوں یا اس کی ساکھ کو متاثر کریں۔

بیورو کے مطابق ملازمت ختم ہونے پر آجر کی ایک اہم قانونی ذمہ داری ملازم کی اصل دستاویزات واپس کرنا بھی ہے۔ اس میں پاسپورٹ سمیت ملازم کی دیگر تمام اصل دستاویزات شامل ہیں، جو ملازمت کے دوران آجر کے پاس موجود رہی ہوں۔

اسی طرح ملازمت کا معاہدہ ختم ہونے پر آجر کو ملازم کی وطن واپسی کے لیے ٹکٹ بھی فراہم کرنا ہوگا۔ تاہم اس شرط کا اطلاق اس صورت میں نہیں ہوگا جب ملازم غیر قانونی طور پر سعودی عرب چھوڑنے کا فیصلہ کرے۔

جاری کردہ معلومات میں ملازمت کے دوران پاکستانی کارکن کی وفات کی صورت میں آجر کی ذمہ داریوں کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ اگر کسی ملازم کا دورانِ ملازمت انتقال ہوجائے تو آجر پر لازم ہے کہ میت کو پاکستان واپس بھیجنے کے تمام اخراجات برداشت کرے۔

تاہم اگر متوفی کے ورثاء سعودی عرب میں ہی تدفین کا فیصلہ کریں تو آجر کو ان کی خواہش کے مطابق وہیں تدفین کے انتظامات اور متعلقہ اخراجات برداشت کرنا ہوں گے۔

بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے قانونی حقوق اور آجر کی ذمہ داریوں سے آگاہ رہیں تاکہ ملازمت کے اختتام پر کسی قسم کی دشواری کی صورت میں متعلقہ حکام سے رجوع کیا جاسکے۔