تازہ ترین
ایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیںایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیں
پاکستان

18 سال سے کم عمر شخص یا لڑکی کی شادی رضامندی کے باوجود چائلڈ میرج شمار کی جائے، لاہور ہائیکورٹ

چائلڈ

لاہور ہائیکورٹ نے کم عمری کی شادی سے متعلق فیصلہ جاری کرتے ہوئے 18 سال سے کم عمر میں شادی کو چائلڈ ابیوز قرار دیا اور کم سن لڑکی کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کر دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس منور اقبال دوگل نے کم عمری کی شادی سے متعلق دائر کیس کا 11 صفحات پر مشتمل تاریخی تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں واضح لکھا ہے کہ 18 سال سے کم عمر شخص یا لڑکی کی شادی قانوناً چائلڈ میرج شمار کی جائے گی۔

فیصلے کے مطابق کم عمر بچے کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنا چاہے، اس کی اپنی رضامندی سے ہی کیوں نہ ہو، اسے قانون کی نظر میں چائلڈ ابیوز ہی تصور کیا جائے گا۔ کم عمر لڑکی کی محض رضامندی اسے کسی بھی بالغ شخص کے ساتھ رہنے کا قانونی حق فراہم نہیں کرتی۔

یہ بھی پڑھیں : عدالت کا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جیل میں ملاقات سمیت تمام سہولیات دینے کا حکم

عدالت نے فیصلے میں طے کیا کہ چائلڈ میرج کے نتیجے میں کم عمر کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنے پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں 5 سے 7 سال تک کی قید ہو سکتی ہے جبکہ اس جرم پر کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔

زیر بحث کیس سے متعلق نادرا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ بچی حنا اسلم کی تاریخ پیدائش یکم مارچ 2011 ہے اور نکاح کے وقت اس کی عمر محض 15 سال 2 ماہ تھی۔

لہذا عدالت نے حنا اسلم کو اس کے مبینہ شوہر یا والدین کے ساتھ براہ راست بھیجنے سے گریز کرتے ہوئے اسے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی محفوظ تحویل میں رکھنے کا حکم سنایا۔ والدین یا مبینہ شوہر کو بچی سے صرف نگران ماحول میں ملاقات کی اجازت ہوگی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کم عمری کی شادی اور جعلی نکاح نامے کے الزامات پر پولیس تحقیقات سے انکار نہیں کر سکتی اور اغوا سے مختلف جرم سامنے آنے پر الگ ایف آئی آر درج کی جا سکتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے اس سلسلے میں جسٹس آف پیس قصور کے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تھانہ بی ڈویژن قصور کے ایس ای او کو قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کر دی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ بچے کی مرضی سے زیادہ اس کی فلاح و بہبود مقدم ہے، پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 نے کم عمری کی شادی کے حوالے سے پرانے قوانین کو تبدیل کر دیا ہے۔