تازہ ترین
ایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیںایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیں
پاکستان

سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی، خصوصی مانیٹرنگ سیل قائم کرنے کا فیصلہ

میٹا اکاؤنٹ سسٹم

اسلام آباد: سرکاری افسران اور ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے خصوصی سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حکام نے بتایا ہے کہ خصوصی سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل آئندہ ایک سے دو ماہ کے دوران فعال ہوجائے گا۔

حکام کے مطابق گریڈ 17 کا ایک سرکاری ملازم اس خصوصی سیل کی نگرانی کرے گا۔ سیل کا مقصد سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور متعلقہ قواعد پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔

سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا استعمال اور اس حوالے سے عائد پابندیوں سے متعلق رپورٹ قائمہ کمیٹی میں بھی پیش کردی گئی ہے۔

حکام کے مطابق سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق نئے قوانین بھی مرتب کیے گئے ہیں۔ ان قواعد کے ذریعے سرکاری افسران اور ملازمین کے سوشل میڈیا استعمال کے لیے واضح ضوابط مقرر کیے گئے ہیں۔

نئے قواعد کے تحت سرکاری افسران اپنے ذاتی یا سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال نہیں کرسکیں گے۔

قواعد میں سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے کسی افسر یا ملازم کی ذاتی تشہیر پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری پلیٹ فارمز کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حکام کے مطابق بعض سرکاری افسران ماضی میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو اپنی ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسی صورتحال کے پیش نظر سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے خصوصی سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مانیٹرنگ سیل سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کا جائزہ لے گا اور نئے قواعد پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

حکام کے مطابق سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق نئی پالیسی کا مقصد سرکاری ملازمین کے لیے ضابطہ اخلاق کو واضح کرنا اور سرکاری عہدے یا سرکاری پلیٹ فارم کے غلط استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔

اس حوالے سے حکام نے ایک خاتون سرکاری افسر کی مثال بھی پیش کی، جنہیں ایک ٹی وی پروگرام میں انٹرویو دینے کے لیے خصوصی اجازت دی گئی تھی۔

حکام کے مطابق نئے قوانین کے نفاذ کے بعد سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا پر ذاتی تشہیر سے متعلق سرگرمیوں کو محدود کردیا جائے گا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے قائم کیا جانے والا خصوصی سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل نئے قواعد کے نفاذ اور سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی میں اہم کردار ادا کرے گا۔