تازہ ترین
ایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیںایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیں
پاکستان

ملک بھر میں حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کی 5ویں برسی عقیدت و احترام سے منائی جار ہی ہے

سید علی شاہ گیلانی

نامور حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کی 5ویں برسی ملک بھر بالخصوص آزاد جموں و کشمیر میں شدید عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جارہی ہے۔

تحریک آزادی کشمیر کے عظیم رہنما سید علی شاہ گیلانی کی آج 5ویں برسی ہے، جسے ملک بھر اور بالخصوص آزاد جموں و کشمیر میں انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جارہا ہے۔

سید علی شاہ گیلانی وہ تاریخی شخصیت تھے، جنہوں نے ’’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘‘ کا تاریخی نعرہ دیا، اور یہ آواز قید و بند کی سخت ترین صعوبتوں میں بھی کبھی خاموش نہ ہو سکی۔ انہوں نے اپنی زندگی کی تقریباً 7 دہائیاں کشمیریوں کے حق خودارادیت اور آزادی کی آواز بلند کرنے میں وقف کر دیں۔

یہ بھی پڑھیں : آزاد کشمیر میں آج سے مرحلہ وار انٹرنیٹ سروسز کی بحالی کا آغاز ہوگا

سید علی شاہ گیلانی کے لیے جدوجہد آزادی صرف ایک سیاست نہیں بلکہ ان کی شناخت، اصول اور ایمان کا بنیادی حصہ تھی، جس پر وہ تاحیات پوری مضبوطی سے قائم رہے۔

انہوں نے کم عمری میں ہی خطے کی سیاست میں قدم رکھا اور وقت کے ساتھ ساتھ کشمیر کی سیاسی زندگی کے اہم پلیٹ فارمز کا حصہ بنتے گئے۔ قائد حریت 1972، 1977 اور 1987 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔

بھارتی مظالم اور پابندیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے انہوں نے اپنی زندگی کے آخری 11 برس سری نگر کے علاقے حیدرپورہ میں اپنے ہی گھر میں نظر بندی کی حالت میں گزارے۔

اس طویل قید تنہائی اور سخت ترین پابندیوں کے باوجود ان کا الحاق پاکستان اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کا عزم کمزور نہ ہو سکا۔

یکم ستمبر 2021 کو سید علی شاہ گیلانی حیدرپورہ میں اپنے گھر میں نظر بند رہتے ہوئے ہی خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی آخری سانسوں میں بھی پاک سرزمین کا نام شامل تھا اور وہ پاکستان کی سلامتی کے لیے دعا گو رہے۔ ان کی وصیت کے مطابق قائد حریت کے جسد خاکی کو سبز ہلالی پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر سپر خاک کیا گیا تھا۔