شازیہ مری کا پمز سانحے پر ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے پمز کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکت کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
26 اگست 2026 کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے۔ ہسپتال ترجمان کے مطابق واقعے کے وقت وارڈ میں 15 بچے موجود تھے۔
نیوز روم کے فراہم کردہ ٹکرز کے مطابق شازیہ مری نے کہا کہ سرکاری اسپتال میں نومولود بچوں کا جاں بحق ہونا انتظامی غفلت اور بدانتظامی کی سنگین مثال ہے۔ انہوں نے حکومت سے واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
شازیہ مری نے سوال اٹھایا کہ آتشزدگی کے وقت فوری امدادی اقدامات مؤثر کیوں ثابت نہ ہوسکے۔ ان کے مطابق معصوم بچوں کی ہلاکت کو محض حادثہ قرار دے کر متعلقہ حکام بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحے کے ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور عوام کو تحقیقات کے نتائج سے آگاہ کیا جائے۔ ٹکرز کے مطابق شازیہ مری نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ بچوں کے وارڈ میں ایئر کنڈیشننگ یونٹ پھٹنے سے آگ لگنے کا خدشہ ہے، جبکہ وارڈ میں موجود آکسیجن نے آگ کی شدت بڑھائی۔ واقعے کی حتمی وجہ کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کے مطابق پمز آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ بعض متاثرہ خاندانوں نے نرسری کے انتظامات اور عملے کی موجودگی سے متعلق الزامات عائد کیے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی حتمی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ادارتی وضاحت: یہ خبر جی ٹی وی نیوز روم کے مصدقہ ٹکرز کو یکجا کرکے مصنوعی ذہانت (AI) کی معاونت سے مرتب کی گئی ہے۔ اشاعت سے قبل خبر کے حقائق، زبان اور سیاق و سباق کی مکمل ادارتی جانچ کی گئی ہے۔ منسلک تصویر بھی AI سے تیار کردہ علامتی اداری تصویر ہے، دستاویزی فوٹو نہیں۔






