تازہ ترین
ایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیںایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیں
صحت

ناشتہ واقعی دن کی سب سے اہم غذا؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف

ناشتہ چھوڑنے کے نقصانات

واشنگٹن: ناشتہ دن کی سب سے اہم غذا ہے یا نہیں، اس حوالے سے طویل عرصے سے بحث جاری ہے، تاہم ایک نئی تحقیق نے اس معاملے میں اہم شواہد پیش کیے ہیں۔

تحقیق کے مطابق صبح کا ناشتہ بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے سے تحفظ میں بھی کردار ادا کرسکتا ہے۔

امریکا کی وینڈربلٹ یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ صبح ناشتہ کرنے سے جسم میں بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز، بالخصوص انسولین اور گلوکاگون، پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ انسولین اور گلوکاگون جسم میں بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک دوسرے کے برعکس کام کرتے ہیں۔ انسولین خون میں موجود گلوکوز کی مقدار کم کرنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ گلوکاگون بلڈ شوگر کی سطح بڑھانے کا کردار ادا کرتا ہے۔

کھانا کھانے کے بعد انسولین جگر کو غذا سے حاصل ہونے والی شکر کو ذخیرہ کرنے کے لیے متحرک کرتی ہے، جبکہ گلوکاگون جگر کو ضرورت کے مطابق گلوکوز خون میں جاری کرنے کا سگنل دیتا ہے۔

محققین نے خاص طور پر اس بات کا جائزہ لیا کہ گلوکاگون جگر پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے اور کھانا کھانے کے چند گھنٹوں بعد اس کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق صبح کے وقت گلوکاگون کی سطح بڑھنے کی صورت میں جگر کو اگلی غذا سے حاصل ہونے والے گلوکوز کو ذخیرہ کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑ سکتی ہے، حتیٰ کہ انسولین اور بلڈ گلوکوز کی سطح معمول کے مطابق ہی کیوں نہ ہو۔

محققین نے مشاہدہ کیا کہ بعض حالات میں جگر گلوکوز کو ذخیرہ کرنے کے بجائے اسے مسلسل خون میں خارج کرتا رہتا ہے۔ اس عمل سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس کے شکار افراد میں دن کے دوران بلڈ شوگر کی سطح بڑھنے کا رجحان کیوں پیدا ہوسکتا ہے۔

دنیا بھر میں ذیابیطس ایک عام دائمی بیماری بن چکی ہے اور دستیاب اندازوں کے مطابق ہر نو بالغ افراد میں سے تقریباً ایک فرد اس مرض سے متاثر ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ناشتہ کرنے یا نہ کرنے کے جسم پر مرتب ہونے والے مکمل اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں ہونے والی تحقیق کے ذریعے اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ ناشتہ جسم کے میٹابولزم اور بلڈ شوگر کے نظام پر طویل مدت میں کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے Frontiers in Endocrinology میں شائع کیے گئے ہیں۔