ہیڈنگلے میں پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست دینے کے بعد انگلینڈ کو سیریز میں برتری حاصل ہے، لیکن اگلا مقابلہ لارڈز میں ہوگا جہاں پاکستان کا ریکارڈ اسے نفسیاتی اعتماد دے سکتا ہے۔ دوسرا ٹیسٹ 27 اگست سے شروع ہوگا اور اس سے قبل پاکستانی ٹیم کو اپنی حکمت عملی میں واضح بہتری لانا ہوگی۔
پاکستان نے لارڈز میں آخری مرتبہ 2018 میں انگلینڈ کو 9 وکٹوں سے شکست دی تھی۔ اس سے پہلے 2016 میں بھی مصباح الحق کی قیادت میں قومی ٹیم نے اسی میدان پر 75 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔
پاکستان کا انگلینڈ میں تاریخی ریکارڈ صرف لارڈز تک محدود نہیں۔ 2016 میں قومی ٹیم نے اوول میں انگلینڈ کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی، جس کے بعد پاکستان عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں بھی نمبر ایک مقام تک پہنچا تھا۔
پاکستان نے انگلینڈ کی سرزمین پر اب تک 13 ٹیسٹ جیتے ہیں، جن میں 5 کامیابیاں لارڈز اور 4 اوول میں حاصل ہوئیں۔ اس طرح لندن کے دونوں تاریخی میدان پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف مجموعی کامیابیوں میں نمایاں کردار رکھتے ہیں۔
2018 کی لارڈز فتح میں محمد عباس پاکستان کے اہم ترین کھلاڑی تھے اور انہوں نے میچ میں 8 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ موجودہ اسکواڈ میں شامل عباس کے لیے اس میدان پر سابقہ کارکردگی ایک اہم نفسیاتی حوالہ ہوسکتی ہے، اگرچہ موجودہ حالات اور ٹیمیں مختلف ہیں۔
پاکستان کے لیے سب سے اہم پیش رفت بابر اعظم کی فٹنس ہوگی۔ وہ دائیں ہاتھ کی انگلی کی انجری کے باعث ہیڈنگلے ٹیسٹ نہیں کھیل سکے، جبکہ ٹیم انتظامیہ نے لارڈز ٹیسٹ میں ان کی واپسی کی امید ظاہر کی ہے۔
ہیڈنگلے کی کامیابی نے انگلینڈ کو اعتماد دیا ہے، مگر لارڈز میں پاکستان کے خلاف حالیہ تاریخ مختلف ہے۔ انگلینڈ کو خاص طور پر پاکستان کے تجربہ کار باؤلرز اور ممکنہ طور پر بابر کی واپسی کے بعد مضبوط بیٹنگ لائن اپ کا سامنا کرنا ہوگا۔
تاریخی ریکارڈ پاکستان کو اضافی اعتماد دے سکتا ہے، لیکن لارڈز میں کامیابی صرف ماضی کے نتائج سے طے نہیں ہوگی۔ ہیڈنگلے کی شکست کے بعد پاکستان کے لیے بیٹنگ میں مستقل مزاجی، ابتدائی وکٹوں کا تحفظ اور انگلینڈ کے جارحانہ باؤلنگ اٹیک کا مقابلہ اصل امتحان ہوگا۔






