کراچی میں میر رضا قتل کیس کی تحقیقات پر مقتول کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے سندھ حکومت کے جوڈیشل کمیشن بنانے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کے باہر گفتگو میں جبران ناصر کا کہنا تھا کہ خاندان کو کمیشن کے فیصلے کی باضابطہ نقل اور اس کے دائرہ کار سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
جبران ناصر کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا بنیادی کردار حقائق اور شواہد کی بنیاد پر سفارشات یا نتائج مرتب کرنا ہوسکتا ہے، جبکہ ان کے نزدیک مقدمے میں موجود بنیادی سوالات کا جواب پولیس تفتیش سے ملنا چاہیے۔ انہوں نے شواہد کے مبینہ ضائع ہونے اور متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر بھی سوال اٹھائے۔
مقتول کے خاندان کے وکیل نے مطالبہ کیا کہ کیس کی تحقیقات کے لیے مختلف اداروں کے نمائندوں پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جارہی ہے تاکہ تفتیش کے اہم پہلوؤں کو ایک جامع طریقہ کار کے تحت دوبارہ دیکھا جاسکے۔
جبران ناصر نے بتایا کہ تفتیشی افسر مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوئے، تاہم ان کے مطابق تاحال کسی ملزم کو نامزد نہیں کیا گیا اور ضمنی چالان سے متعلق بھی کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے سابقہ تفتیشی ٹیم کی کارکردگی اور اس کے خلاف ممکنہ کارروائی کے بارے میں بھی وضاحت طلب کی۔
وکیل کے مطابق مقتول کے خاندان نے تحقیقات سے متعلق 24 سوالات اٹھائے تھے، لیکن ان میں سے کسی سوال کا تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیو فینسنگ سمیت دیگر تکنیکی شواہد کے بارے میں بھی خاندان کو مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
جبران ناصر نے دعویٰ کیا کہ واقعے سے متعلق آخری دستیاب فوٹیجز ابھی تک خاندان کے ساتھ شیئر نہیں کی گئیں۔ ان کے مطابق متعلقہ شوروم کے دو کیمروں کی ریکارڈنگ بھی فراہم نہیں کی گئی، جس کی دستیابی اور حالت کی وضاحت تحقیقات کا اہم حصہ ہونی چاہیے۔
مقتول کے وکیل نے کیس میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والی موٹر سائیکل اور آلٹو گاڑی کا سراغ نہ ملنے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق ان شواہد کی تلاش اور فرانزک جانچ مقدمے کی سمت واضح کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
جبران ناصر کے مطابق خاندان کی جانب سے جے آئی ٹی کے مطالبے پر قانونی کارروائی آگے بڑھائی جارہی ہے۔ مقدمے کی آئندہ پیش رفت کا انحصار عدالت کے فیصلے، تفتیشی اداروں کی کارروائی اور دستیاب شواہد کی مکمل جانچ پر ہوگا۔






