تازہ ترین
ایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیںایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیں
دنیا

ایک ہی فلم بار بار چل رہی ہے؛ امریکا کی نئی پابندیوں پر ایرانی وزیر خارجہ کا ٹرمپ کو کرارا جواب

ایران نے امریکا کی جانب سے نئی اقتصادی پابندیوں کے ممکنہ اعلان کو پرانی دباؤ کی پالیسی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پیر کو متوقع امریکی اقدامات تہران کے لیے کوئی نئی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک ہی طرز کی پالیسی کا اعادہ ہیں۔

عباس عراقچی نے امریکی پابندیوں کے ممکنہ پیکیج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران ایسی صورتحال کو ایک ہی فلم بار بار چلنے کے مترادف سمجھتا ہے۔

ان کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ واشنگٹن اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کی پالیسی تبدیل کرنے کی کوشش پہلے بھی کرچکا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ پالیسی کو سابق امریکی حکومتوں سے مختلف قرار دینے کے مؤقف کو بھی چیلنج کیا۔

ان کے مطابق دباؤ، دھمکی اور اقتصادی پابندیوں کا استعمال کسی ایک امریکی انتظامیہ تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف ادوار میں یہی طریقہ اختیار کیا گیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان اقتصادی تنازع کئی برس سے جاری ہے، جبکہ واشنگٹن مختلف ادوار میں ایرانی حکومت، مالیاتی اداروں، توانائی کے شعبے اور تجارتی نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کرتا رہا ہے۔ تہران مسلسل مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ ایسی پابندیاں ایرانی حکومت کو جھکانے کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کرتی ہیں۔

امریکی پابندیوں کا بنیادی مقصد ایران کی بیرونی آمدن، تجارتی روابط اور مالیاتی رسائی کو محدود کرنا ہوتا ہے۔ واشنگٹن عموماً ایسے اقدامات کو ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھانے اور اس کے علاقائی و جوہری مؤقف میں تبدیلی لانے کے لیے استعمال کرتا ہے، جبکہ تہران انہیں معاشی جنگ قرار دیتا ہے۔

نئی پابندیوں کے نفاذ سے ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ اگر واشنگٹن نے پابندیوں کا دائرہ ایران کے تجارتی شراکت داروں یا بیرونی کمپنیوں تک بڑھایا تو خلیجی تجارت، توانائی کی منڈی اور علاقائی سفارت کاری بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

تہران کے تازہ ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران امریکی اقتصادی دباؤ کو مذاکرات کی نئی بنیاد کے بجائے موجودہ محاذ آرائی کا حصہ سمجھ رہا ہے۔ اس صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کے لیے اقتصادی پابندیوں کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور جوہری معاملات پر بھی پیش رفت ضروری ہوگی۔

اگر امریکا نئی پابندیوں کا اعلان کرتا ہے تو اس کے بعد ایران کا عملی ردعمل کشیدگی کی سمت متعین کرے گا۔ موجودہ حالات میں اصل سوال یہ نہیں کہ اقتصادی دباؤ جاری رہے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا پابندیاں تہران کے رویے میں تبدیلی لاتی ہیں یا دونوں ممالک کو مزید سخت محاذ آرائی کی طرف لے جاتی ہیں۔