امریکا ایران کے خلاف نئی اقتصادی مہم شروع کرنے جا رہا ہے، جسے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واشنگٹن کی جانب سے کسی مخالف ملک کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی قرار دیا ہے۔ بیسنٹ کے مطابق نئی حکمت عملی کا مقصد تہران کی باقی ماندہ مالی اور تجارتی رسائی ختم کرنا ہے۔
نئی مہم صرف ایرانی اداروں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو بھی دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے۔ بیسنٹ نے اتحادی ممالک سے واشنگٹن کی مہم میں شامل ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایرانی تیل، مالی لین دین اور نقل و حمل کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
بیسنٹ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ معاشی دباؤ کو بڑے پیمانے کی نئی فوجی کارروائی کے متبادل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اقتصادی دباؤ کا مقصد تہران کو مذاکرات یا پالیسی میں تبدیلی پر مجبور کرنا ہے، جبکہ نئی فوجی کارروائی کی ضرورت کم کی جاسکتی ہے۔
ایران 1979 کے انقلاب کے بعد مختلف ادوار میں امریکی پابندیوں کا سامنا کرتا رہا ہے۔ موجودہ مہم اس لیے مختلف ہے کہ واشنگٹن اب صرف ایران کی معیشت کو محدود کرنے کے بجائے اس کے بیرونی تجارتی رابطوں کو بھی دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی حکمت عملی پابندیوں کے اثرات کو ایران کی سرحدوں سے باہر تک پھیلا سکتی ہے۔
توانائی کا شعبہ اس کشمکش کا سب سے حساس محاذ بن سکتا ہے۔ ایران نے نئی اقتصادی پابندیوں کے جواب میں خلیج سے تیل کی برآمدات روکنے کی دھمکی دی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ اس لیے پابندیوں کا اثر صرف ایرانی معیشت تک محدود رہنے کے بجائے عالمی تیل منڈی پر بھی پڑسکتا ہے۔
تہران نے امریکی دباؤ کو قبول کرنے کے بجائے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ایرانی حکام نے نئی پابندیوں کی حمایت کو سنگین اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے اقتصادی جنگ میں شدت آنے کی صورت میں ایران کا ردعمل سخت ہوسکتا ہے۔
اگر واشنگٹن نے ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں پر بھی ثانوی پابندیاں عائد کیں تو عالمی کمپنیوں کو امریکی مارکیٹ تک رسائی اور ایران کے ساتھ کاروبار میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑسکتا ہے۔ اس صورتحال سے تیل کی قیمتوں، شپنگ انشورنس اور خلیجی تجارت میں مزید غیر یقینی پیدا ہونے کا امکان ہے۔
اب اصل امتحان پابندیوں کے اعلان سے زیادہ ان کے نفاذ کا ہوگا۔ اگر امریکا ایران کی تیل آمدن، بینکاری اور بیرونی تجارت کو بیک وقت محدود کرنے میں کامیاب رہا تو تہران پر معاشی دباؤ نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے؛ تاہم آبنائے ہرمز میں کسی نئی کشیدگی نے عالمی توانائی بحران کو مزید گہرا کرنے کا خطرہ بھی پیدا کردیا ہے۔






