امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور آبنائے ہرمز سے متعلق ایک بار پھر سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بات جنوبی کیرولائنا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران کہی، جہاں انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور خطے کی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
ان کے مطابق اگر تہران نے جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو اس کے انتہائی سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
ٹرمپ کے تازہ بیان کے وقت امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ واشنگٹن نئی پابندیوں کا اعلان کرنے والا ہے، جن کے دائرے میں ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے بعض بڑے ممالک اور کاروباری شراکت دار بھی آسکتے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق نئی پابندیوں کا مقصد ایران پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ کرنا اور اس کی تجارتی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔
آبنائے ہرمز ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں مرکزی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ خطے میں فوجی تناؤ بڑھنے کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ سے تیل بردار اور تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اسی وجہ سے یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات خطے سے باہر عالمی منڈیوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے حالیہ بیان نے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی پالیسی اور خطے میں واشنگٹن کے ممکنہ اقدامات کے بارے میں مزید سوالات پیدا کردیے ہیں۔






