تازہ ترین
ایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیںایران جنگ کی حساس معلومات لیک، 50 امریکی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹپاک فوج کا قلات میں آپریشن، فتنتہ الہندوستان کے 12 دہشت گرد جہنم واصلبلوچستان کے شہر بھاگ پر 40 دہشت گردوں کا حملہ، پولیس کی 2 گھنٹے جرات مندانہ مزاحمت، حملہ آور فرارسانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکماندرونِ سندھ کے 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس وائرس کی تصدیقچین، روس کی بدولت آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے محفوظ رہا، سربراہ روسی آئل کمپنیتجارتی جہازوں پر حملے رکنے تک ایران سے بات چیت نہیں ہوگی، امریکی نائب صدرسعودی عرب ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی یہ ہدایات ضرور جان لیں
پاکستان

سانحہ پمز آتشزدگی کیس، عدالت کا تمام فریقین سے 15 دن میں جواب جمع کرانے کا حکم

سانحہ پمز

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سانحہ پمز پر درخواست کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے فریقین سے 15 دن میں جواب طلب کر لیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پمز کے سانحے پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی درخواست پر پچھلی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں تمام فریقین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 15 دن کے اندر اندر معاملے پر اپنی رپورٹ اور پیرا وائز کمنٹس ہر صورت عدالت میں جمع کروائیں۔ علاوہ ازیں عدالت نے اس واقعہ پر وزیراعظم پاکستان کو پیش کی گئی تمام تحقیقاتی رپورٹس بھی ساتھ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مصطفیٰ کمال کا پمز اسپتال کا اچانک دورہ، کارڈیک سینٹر اور ریڈیالوجی شعبے کی سہولیات کا جائزہ لیا

حکم نامے میں ذکر کیا گیا ہے کہ سینیئر انتظامی عہدوں پر فائز افراد کا موثر احتساب نہ ہونے کی وجہ سے ایسے حادثات بار بار ہو رہے ہیں۔

درخواست گزار نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور دیگر ذمہ دار افسران کی تعیناتیوں کی قانونی جانچ، سی سی ٹی وی فوٹیج، الیکٹرانک ڈیٹا، ڈیوٹی اور مینٹیننس ریکارڈ کو محفوظ بنا کر محکماتی و مجرمانہ کارروائی شروع کرنے کی استدعا کی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی انتظامات یقینی بنانا حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کیس کی آئندہ سماعت 28 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے۔